حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي مَرَضِهِ " وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي بَعْضَ أَصْحَابِي " . قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ فَسَكَتَ قُلْنَا أَلاَ نَدْعُو لَكَ عُمَرَ فَسَكَتَ قُلْنَا أَلاَ نَدْعُو لَكَ عُثْمَانَ قَالَ " نَعَمْ " . فَجَاءَ عُثْمَانُ فَخَلاَ بِهِ فَجَعَلَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُكَلِّمُهُ وَوَجْهُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّرُ . قَالَ قَيْسٌ فَحَدَّثَنِي أَبُو سَهْلَةَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ يَوْمَ الدَّارِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَهِدَ إِلَىَّ عَهْدًا وَأَنَا صَائِرٌ إِلَيْهِ . وَقَالَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ وَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ . قَالَ قَيْسٌ فَكَانُوا يُرَوْنَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں فرمایا: میری خواہش یہ ہے کہ میرے پاس میرے صحابہ میں سے کوئی ہوتا ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ابوبکر کو نہ بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، ہم نے عرض کیا: کیا ہم عمر کو نہ بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، ہم نے عرض کیا: کیا ہم عثمان کو نہ بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، تو وہ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے تنہائی میں باتیں کرنے لگے، اور عثمان رضی اللہ عنہ کا چہرہ بدلتا رہا۔ قیس کہتے ہیں: مجھ سے عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام ابوسہلۃ نے بیان کیا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے جس دن ان پر حملہ کیا گیا کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے جو عہد لیا تھا میں اسی کی طرف جا رہا ہوں۔ علی بن محمد نے اپنی حدیث میں: «وأنا صابر عليه» کہا ہے، یعنی: میں اس پر صبر کرنے والا ہوں۔ قیس بن ابی حازم کہتے ہیں: اس کے بعد سب لوگوں کا خیال تھا کہ اس گفتگو سے یہی دن مراد تھا ۱؎۔
“It was narrated that 'Aishah said:"When he was ill, the Messenger of Allah said: 'I would like to have some of my Companions with me.' We said: 'O Messenger of Allah! Shall we call Abu Bakr for you?' But he remained silent. We said: 'Shall we call 'Umar for you?' But he remained silent. We said: 'Shall we call 'Uthman for you?' He said: 'Yes.' So 'Uthman came and he spoke to him in private. The Prophet started to speak to him and 'Uthman's expression changed." Qais said: "Abu Sahlah, the freed slave of 'Uthman, narrated to me that on the Day of the House, 'Uthman bin 'Affan said: 'The Messenger of Allah told me what would come to pass and now I am coming to that day.'"In his narration of the Hadith, 'Ali (one of the narrators) said (that he said): "And I am going to bear it with patience." Qais said: "They used to think that that was the Day of the House”